اداریه ۳ مئی ۲۰۲۶

حکمرانوں کی آزادی صحافت کے دعوے اور بلوچستان میں پرنٹ میڈیا کش پالیسی و زمینی حقیقت

اس وقت ملک کے اعلی آئینی و سیاسی عہدیداران، جن میں وزیرِ اعظم، صدرِ مملکت، وزرائے اعلی اور وفاقی وزرا شامل ہیں، بارہا اس عزم کا اظہار کر رہے ہیں کہ آزادی اظہارِ رائے جمہوری نظام کی بنیاد ہے اور ایک آزاد، محفوظ اور ذمہ دار صحافت ہی ریاست کے استحکام کی ضامن ہے۔ سردار ایاز صادق نے عوامی اعتماد اور جمہوری اقدار کے فروغ کو قومی استحکام سے جوڑا ہے، جبکہ وفاقی وزرا اطلاعات و دیگر رہنماوں نے عالمی یومِ صحافت کے موقع پر صحافی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ یہ بیانات بظاہر ایک مضبوط جمہوری عزم کی عکاسی کرتے ہیں، مگر زمینی حقیقتیں ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔بلوچستان میں صورتحال ان دعووں کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ یہاں پرنٹ میڈیا، جو تاریخی طور پر عوامی آواز اور سماجی شعور کا اہم ذریعہ رہا ہے، شدید دباو اور مالی بحران کا شکار ہے۔ صوبے میں سرکاری اشتہارات، جو میڈیا کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں، نہ صرف محدود ہیں بلکہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں انتہائی کم سطح پر ہیں۔ نجی اشتہاری مارکیٹ بھی نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے باعث اخبارات اور جرائد مالی طور پر کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت، جو ایک سیاسی سمجھوتے کے تحت قائم ہے، نے حال ہی میں ایک نئی اشتہاری پالیسی کی منظوری دی ہے جس کے بارے میں میڈیا حلقوں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ اس سے پرنٹ میڈیا مزید کمزور ہو سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اس پالیسی کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ بلوچستان کا تاریخی اور فعال پریس شدید بحران کا شکار ہو جائے گا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچستان میں میڈیا کو صرف معاشی دباو ہی نہیں بلکہ پالیسی سطح پر غیر یقینی صورتحال کا بھی سامنا ہے۔ اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم، وسائل کی کمی اور ادارہ جاتی عدم توجہی نے آزاد صحافت کے دائرہ کار کو محدود کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں بعض ادارے بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، جبکہ کئی ادارے پہلے ہی بندش کے خطرے سے دوچار ہیں۔یہ صورتحال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ جب پورے ملک میں آزادی صحافت کے بلند و بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں، تو بلوچستان جیسے اہم اور حساس خطے میں عملی اقدامات اس کے برعکس کیوں نظر آتے ہیں؟ اگر آزادی اظہار واقعی ریاستی پالیسی کا حصہ ہے تو پھر اس کا اطلاق یکساں ہونا چاہیے، نہ کہ مختلف خطوں میں مختلف معیار اختیار کیا جائے۔آزادی صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی روح ہے، اور اگر اس روح کو مالی دباو، پالیسی پابندیوں اور ادارہ جاتی عدم توازن سے کمزور کیا جائے تو جمہوریت محض ایک رسمی ڈھانچہ رہ جاتی ہے۔ بلوچستان کا پرنٹ میڈیا آج اسی آزمائش سے گزر رہا ہے، جہاں ایک طرف سرکاری بیانات ہیں اور دوسری طرف عملی حقائق۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں اپنے بیانات کو عملی اقدامات سے ہم آہنگ کریں، اشتہارات کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائیں، اور میڈیا کو محض ادارہ نہیں بلکہ ایک قومی فریضہ سمجھ کر تحفظ فراہم کریں۔ بصورت دیگر آزادی صحافت کے دعوے اور زمینی حقیقتوں کے درمیان یہ خلیج مزید وسیع ہوتی جائے گی۔